امریکی دباﺅ میں ایندھن کے بحران کا خدشہ
محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
امریکہ آج کل شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ملک کی قرض لینے کی اہلیت کو بڑھا کر 14.3کھرب ڈالر نہیں کیا گیا تو امریکہ کی اقتصادی حالت خراب ہوجائے گی جس سے پوری دنیا ایک بار پھر 2008جیسی کساد بازاری کی گرفت میں آ سکتی ہے۔ امریکہ پر فی سیکنڈ 40ہزار ڈالر کا قرض بڑھ رہا ہے ۔ دوسری جانب شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں جاری جمہوریت پسند تحریکوں سے اس کی اتحادی حکومتیں کمزور ہورہی ہیں ۔چند روز پہلے یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکہ بحرین سے اپنا پانچواں فوجی بیڑہ متحدہ عرب امارات یا قطر میں منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے ۔ گزشتہ 10مئی کو امریکن انٹر پرائزانسٹی ٹیوٹ کے سرکردہ دانشور مائکل آسلن نے نئی دہلی میں واقع امریکن سینٹر میں اخباری نمائندوں کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ اب خلیجی ممالک میں حالات کی تبدیلی اور دنیامیں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر امریکی انتظامیہ عام طور پر ایشیائی ممالک اور خاص طور پر ہندوستان کو اہمیت دے گا۔
کئی ہندستانی معروف ماہرین نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے امریکہ سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ البتہ شو بھن سکسینہ نے ایک حالیہ تحریر میں کہا ہے کہ ممکن ہے کہ آئندہ کچھ برسوں میں ہندوستان امریکہ کا پٹھو بننے میں کامیاب ہوجائے لیکن اس کی قیمت کے طور پر ہمیں کئی حقیقی اور قابل اعتماد پڑوسی دوست ممالک سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ سابق سفارتکار ایم کے بھدر کمار نے ہندوستان کے امریکہ پر بڑھتے ہوئے انحصار کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے دباو کی وجہ سے ہم نے ایران سے تیل دآمد کرنا بند کر دیا تو خطے میں ہماری کیا حیثیت رہ جائے گی ؟ ان کے مطابق چین اور ایران کے درمیان بڑھتے تجارتی تعلقات اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے ہندوستان کے الگ ہوجانے اور اب ایران کو تیل کی قیمت کی ادائیگی میںامریکہ کے ذریعہ پیدا کی گئی رکاوٹوں سے ہندوستان کا غیرمعمولی نقصان ہوگا۔ حالانکہ تازہ اطلاعات کے مطابق ہندستان نے ایران کے تیل کی ادائگی سے متعلق متبادل انتظام کر لیا ہے لیکن یہ کتنا کارگر ر اورت بکب تک جاری ہے گا یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔
ایران نے 3جولائی 2011کو ہندوستان کو تنبیہ کی تھی کہ اگر اس نے تیل کی باقیماندہ رقم کی جلد ادائیگی نہ کی تو وہ اگست 2011سے ہندوستان کو تیل فروخت کرنا بند کر دے گا۔ واضح رہے کہ ہندوستان کل تیل درآمد کا 12فیصد ایران سے خریدتا ہے ۔ایران کے لئے ہندوستان ، چین کے بعد وسرا بڑا خریدار ملک ہے ۔ دسمبر 2010سے ہندوستان ایران کو تیل کی قیمت اس لئے ادا نہیں کر سکا ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعہ ایران کے جوہری پروگرام پر شک کو بنیادبنا کر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔ حالانکہ تیل کی تجارت کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے پھر بھی ہندوستان پر دباو ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو کم ترین سطح پر لے آئے۔ اس وقت ہندوستان کو 5ارب امریکی ڈالر ایران کو ادا کرنے ہیں۔ ایک سال میں ہندوستان ، ایران سے تقریباً 12ارب ڈالر کا تیل خریدتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے ہندوستان کی تیل کمپنیوں ، ہندوستان پٹرولیم ، انڈین آئل ، بھارت پٹرولیم اور منگلور تیل صاف کرنے والے کارخانے کو اگست میں تیل فراہم کرنے کی ابھی تک کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی ہے ۔ اسی وجہ سے ہندوستانی تیل کمپنیوں نے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور عراق سے اضافی تیل حاصل کرنے کے سودے کئے ہیں۔ ہندوستان پٹرولیم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہر ماہ 2کارگو جہاز اضافی تیل حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ بھارت پٹرولیم نے بھی ایران سے ایک ارب ٹن خام تیل اگست سے ہی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن ابھی تک ایران کو ادائیگی میں آرہی مشکلات کی وجہ سے اس کے بھی معطل رہنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2010میں امریکہ کے دباو میں ریزرو بینک آف انڈیا نے ایشیائی کلیئر نگ یونین کے ذریعہ ہونے والی ادائیگی روک دی تھی ۔ اس کے بعد ہندوستان نے جرمن بینکوںکے ذریعہ ادائیگی کا راستہ نکالا لیکن وہ بھی بند ہوگیا ۔ حال ہی میں ہندوستانی حکومت نے ترکی اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں کے تعاون سے ادائیگی کا متبادل تلاش کیا ہے لیکن ابھی اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
ایشیا میں ہندستان ایک بڑا اور سرکردہ ملک ہے ۔ امریکہ ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک بھی اس کی اہمیت کا بارہا اعتراف کر چکے ہیں۔ حال ہی میں عراق ، شام ، افغانستان اور پاکستان نے کچھ ایسے فیصلے لئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کر رہے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق ہندوستان مبینہ طور پر امریکہ کے دباو میں اپنے قدیمی دوستوں سے دور ہورہا ہے۔
گزشتہ جون ماہ میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے تہران میں منعقد ہونے والی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں شرکت کے لئے نائب صدر محمد حامد انصاری کو مدعو کیا تھا۔ اس پر وزارت خارجہ نے نہ صر ف اس دعوت نامے کو منظور نہیں کیا بلکہ کسی دیگر شخصیت کو بھی متبادل کے طور پر شرکت کے لئے نامزد نہیں کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے علاوہ کچھ دیگر ممالک پر بھی تہران میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا دبا و تھا لیکن افغانستان اور پاکستان حکومتوں نے امریکہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے فیصلے لئے ۔ تہران میں ہونے والی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ایران کے ساتھ سہ جانبہ مذاکرات بھی انجام دئے۔ صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ ملاقاتوں میں افغانستان اور پاکستان کے صدور نے سیاسی ، اقتصادی ، ثقافتی ، سیکورٹی اور دہشت گردی مخالف مہم جیسے امور میں باہمی تعاون کا عہد کیا۔ حامد کرزئی نے خطے میں بحالی امن اور استحکام کے لئے ایران کی غیر معمولی اہمیت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرتا ہے اور نئی صورتحال میں ایران اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ نگار وں کے مطابق امریکہ کے دباو میں آکر ہندوستان نے افغانستان کے موضوع پر ایران اور پاکستان کو نزدیک کر دیا ہے جبکہ اب تک ہندوستان نے افغانستان میںبڑی سرمایہ کاری کی ہے ۔ کرزئی کے بیان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اب ہندوستان کا افغانستان میں کوئی اہم کردار نہیں رہا ہے۔
29جون کو ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں شوبھن سکسینہ نے لکھا ہے کہ اب تک ایران نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دوبار مدعو کیا ہے جس پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ ان کے مطابق امریکہ کے دباو میں حکومت ایسے کسی بھی ملک سے تعلقات میں سرگرمی ظاہر نہیں کرنا چاہتی جو امریکہ کے مخالف ہو۔ حال ہی میں ایران ، عراق اور شام نے 10ارب ڈالر کی مالیت کی گیس پائپ لائن بچھانے کا سمجھوتہ کیا ہے ۔ اس کے تحت 1500کلو میٹر لمبی پائپ لائن ایران میں اسالویہ کے مقام سے شام کی راجدھانی دمشق تک بچھائی جائے گی۔ مجوزہ گیس پائپ لائن کے ذریعہ 10ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس ہر روز منتقل کی جائے گی۔ بعد میں یہ پائپ لائن لبنان تک پہنچائی جائے گی۔ اس کے بعد اضافی گیس یوروپی ممالک کو مہیا کی جائے گی۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق عراق کو روزانہ 53کروڑ کیوبک فٹ ، شام کو 70کروڑ 60 لاکھ کیوبک فٹ اور لبنان کو 24کروڑ 70لاکھ کیوبک فٹ گیس کی ضرورت ہے جبکہ 2.4 ارب کیوبک فٹ گیس یوروپی بازار کو فروخت کی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ تہران میںدہشت گردی مخالف کانفرنس میں افغانستان اور پاکستان کے صدور کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ دونوں ممالک امریکہ کے ساتھ دوستی سے تھک چکے ہیں اور وہ قطعی اس کی ناراضگی سے خوفزدہ نہیں ہیں ۔ دوسری طرف عراق اورشام کا ایران سے پائپ لائن کے ذریعہ گیس حاصل کرنے کا سمجھوتہ بھی کافی واضح ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان اور عراق ایسے ممالک ہیں جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج بھی موجود ہیں پھر بھی انہوں نے اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کر کے یہ بتا دیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ یاامریکی فوج سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہندوستان نے اپنی خارجہ پالیسی امریکی مفادات کے مطابق ڈھال لی ہے۔ اس سے خدشہ یہ ہے کہ ہندوستان کے کئی قدیمی دوست بچھڑ جائیں گے اور نئے دشمن پیدا ہوں گے۔ ہندوستا ن اور ایران کے درمیان تاریخی ثقافتی تعلقات ہیں لیکن اب یہ حال ہے کہ ہندوستانی عوام ایران کے خلاف مغربی پروپیگنڈے سے متاثر رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں ایران ہی واحد جمہوری ملک ہے اور وہ امریکی لالچی کمپنیوں کو اپنا تیل اور گیس نہیں دینا چاہتا۔ امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں کی اصل وجہ یہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ہندوستان پر دباوڈال رہاہے کہ ایران سے تیل نہ خریدے ۔ ہندوستان کو ایران سے پاکستان کے راستے آنے والی مجوزہ گیس پائپ لائن پروجیکٹ سے بھی دور رکھا گیا ہے۔ اب یہ پائپ لائن ایران سے صرف پاکستان تک آرہی ہے اور 2014میں اس کے ذریعہ پاکستان کو گیس ملنا شروع ہوجائےگا۔
اگرامریکی دباو ¿ جاری رہا تو ہندوستان اپنے تمام ترقیاتی پروگراموں کے لئے آنے والے برسوں میں ایندھن کی غیر معمولی ضرورت کیسے پوری کرے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے لیے ایندھن کی سپلائی میں خلل ڈال کر ملک کی ترقی متاثر کرنا مقصد ہے۔ دنیا کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے جس ملک سے بھی دوستی بڑھائی ہے آخر میں اس ملک کا انجام خراب ہوا ہے ۔ حالیہ برسوں میں عراق اور پاکستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں ۔ حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے لئے قابل اعتماد علاقائی ممالک سے دوستی اہم ہے یا ایسے ملک سے جو خود اقتصادی بحران میں مبتلا ہو اور جس پر کئی ممالک کی تباہی کا الزام ہو۔
امریکہ آج کل شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ملک کی قرض لینے کی اہلیت کو بڑھا کر 14.3کھرب ڈالر نہیں کیا گیا تو امریکہ کی اقتصادی حالت خراب ہوجائے گی جس سے پوری دنیا ایک بار پھر 2008جیسی کساد بازاری کی گرفت میں آ سکتی ہے۔ امریکہ پر فی سیکنڈ 40ہزار ڈالر کا قرض بڑھ رہا ہے ۔ دوسری جانب شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں جاری جمہوریت پسند تحریکوں سے اس کی اتحادی حکومتیں کمزور ہورہی ہیں ۔چند روز پہلے یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکہ بحرین سے اپنا پانچواں فوجی بیڑہ متحدہ عرب امارات یا قطر میں منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے ۔ گزشتہ 10مئی کو امریکن انٹر پرائزانسٹی ٹیوٹ کے سرکردہ دانشور مائکل آسلن نے نئی دہلی میں واقع امریکن سینٹر میں اخباری نمائندوں کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ اب خلیجی ممالک میں حالات کی تبدیلی اور دنیامیں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر امریکی انتظامیہ عام طور پر ایشیائی ممالک اور خاص طور پر ہندوستان کو اہمیت دے گا۔
کئی ہندستانی معروف ماہرین نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے امریکہ سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ البتہ شو بھن سکسینہ نے ایک حالیہ تحریر میں کہا ہے کہ ممکن ہے کہ آئندہ کچھ برسوں میں ہندوستان امریکہ کا پٹھو بننے میں کامیاب ہوجائے لیکن اس کی قیمت کے طور پر ہمیں کئی حقیقی اور قابل اعتماد پڑوسی دوست ممالک سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ سابق سفارتکار ایم کے بھدر کمار نے ہندوستان کے امریکہ پر بڑھتے ہوئے انحصار کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے دباو کی وجہ سے ہم نے ایران سے تیل دآمد کرنا بند کر دیا تو خطے میں ہماری کیا حیثیت رہ جائے گی ؟ ان کے مطابق چین اور ایران کے درمیان بڑھتے تجارتی تعلقات اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے ہندوستان کے الگ ہوجانے اور اب ایران کو تیل کی قیمت کی ادائیگی میںامریکہ کے ذریعہ پیدا کی گئی رکاوٹوں سے ہندوستان کا غیرمعمولی نقصان ہوگا۔ حالانکہ تازہ اطلاعات کے مطابق ہندستان نے ایران کے تیل کی ادائگی سے متعلق متبادل انتظام کر لیا ہے لیکن یہ کتنا کارگر ر اورت بکب تک جاری ہے گا یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔
ایران نے 3جولائی 2011کو ہندوستان کو تنبیہ کی تھی کہ اگر اس نے تیل کی باقیماندہ رقم کی جلد ادائیگی نہ کی تو وہ اگست 2011سے ہندوستان کو تیل فروخت کرنا بند کر دے گا۔ واضح رہے کہ ہندوستان کل تیل درآمد کا 12فیصد ایران سے خریدتا ہے ۔ایران کے لئے ہندوستان ، چین کے بعد وسرا بڑا خریدار ملک ہے ۔ دسمبر 2010سے ہندوستان ایران کو تیل کی قیمت اس لئے ادا نہیں کر سکا ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعہ ایران کے جوہری پروگرام پر شک کو بنیادبنا کر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔ حالانکہ تیل کی تجارت کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے پھر بھی ہندوستان پر دباو ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو کم ترین سطح پر لے آئے۔ اس وقت ہندوستان کو 5ارب امریکی ڈالر ایران کو ادا کرنے ہیں۔ ایک سال میں ہندوستان ، ایران سے تقریباً 12ارب ڈالر کا تیل خریدتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے ہندوستان کی تیل کمپنیوں ، ہندوستان پٹرولیم ، انڈین آئل ، بھارت پٹرولیم اور منگلور تیل صاف کرنے والے کارخانے کو اگست میں تیل فراہم کرنے کی ابھی تک کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی ہے ۔ اسی وجہ سے ہندوستانی تیل کمپنیوں نے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور عراق سے اضافی تیل حاصل کرنے کے سودے کئے ہیں۔ ہندوستان پٹرولیم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہر ماہ 2کارگو جہاز اضافی تیل حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ بھارت پٹرولیم نے بھی ایران سے ایک ارب ٹن خام تیل اگست سے ہی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن ابھی تک ایران کو ادائیگی میں آرہی مشکلات کی وجہ سے اس کے بھی معطل رہنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2010میں امریکہ کے دباو میں ریزرو بینک آف انڈیا نے ایشیائی کلیئر نگ یونین کے ذریعہ ہونے والی ادائیگی روک دی تھی ۔ اس کے بعد ہندوستان نے جرمن بینکوںکے ذریعہ ادائیگی کا راستہ نکالا لیکن وہ بھی بند ہوگیا ۔ حال ہی میں ہندوستانی حکومت نے ترکی اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں کے تعاون سے ادائیگی کا متبادل تلاش کیا ہے لیکن ابھی اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
ایشیا میں ہندستان ایک بڑا اور سرکردہ ملک ہے ۔ امریکہ ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک بھی اس کی اہمیت کا بارہا اعتراف کر چکے ہیں۔ حال ہی میں عراق ، شام ، افغانستان اور پاکستان نے کچھ ایسے فیصلے لئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کر رہے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق ہندوستان مبینہ طور پر امریکہ کے دباو میں اپنے قدیمی دوستوں سے دور ہورہا ہے۔
گزشتہ جون ماہ میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے تہران میں منعقد ہونے والی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں شرکت کے لئے نائب صدر محمد حامد انصاری کو مدعو کیا تھا۔ اس پر وزارت خارجہ نے نہ صر ف اس دعوت نامے کو منظور نہیں کیا بلکہ کسی دیگر شخصیت کو بھی متبادل کے طور پر شرکت کے لئے نامزد نہیں کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے علاوہ کچھ دیگر ممالک پر بھی تہران میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا دبا و تھا لیکن افغانستان اور پاکستان حکومتوں نے امریکہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے فیصلے لئے ۔ تہران میں ہونے والی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ایران کے ساتھ سہ جانبہ مذاکرات بھی انجام دئے۔ صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ ملاقاتوں میں افغانستان اور پاکستان کے صدور نے سیاسی ، اقتصادی ، ثقافتی ، سیکورٹی اور دہشت گردی مخالف مہم جیسے امور میں باہمی تعاون کا عہد کیا۔ حامد کرزئی نے خطے میں بحالی امن اور استحکام کے لئے ایران کی غیر معمولی اہمیت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرتا ہے اور نئی صورتحال میں ایران اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ نگار وں کے مطابق امریکہ کے دباو میں آکر ہندوستان نے افغانستان کے موضوع پر ایران اور پاکستان کو نزدیک کر دیا ہے جبکہ اب تک ہندوستان نے افغانستان میںبڑی سرمایہ کاری کی ہے ۔ کرزئی کے بیان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اب ہندوستان کا افغانستان میں کوئی اہم کردار نہیں رہا ہے۔
29جون کو ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں شوبھن سکسینہ نے لکھا ہے کہ اب تک ایران نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دوبار مدعو کیا ہے جس پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ ان کے مطابق امریکہ کے دباو میں حکومت ایسے کسی بھی ملک سے تعلقات میں سرگرمی ظاہر نہیں کرنا چاہتی جو امریکہ کے مخالف ہو۔ حال ہی میں ایران ، عراق اور شام نے 10ارب ڈالر کی مالیت کی گیس پائپ لائن بچھانے کا سمجھوتہ کیا ہے ۔ اس کے تحت 1500کلو میٹر لمبی پائپ لائن ایران میں اسالویہ کے مقام سے شام کی راجدھانی دمشق تک بچھائی جائے گی۔ مجوزہ گیس پائپ لائن کے ذریعہ 10ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس ہر روز منتقل کی جائے گی۔ بعد میں یہ پائپ لائن لبنان تک پہنچائی جائے گی۔ اس کے بعد اضافی گیس یوروپی ممالک کو مہیا کی جائے گی۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق عراق کو روزانہ 53کروڑ کیوبک فٹ ، شام کو 70کروڑ 60 لاکھ کیوبک فٹ اور لبنان کو 24کروڑ 70لاکھ کیوبک فٹ گیس کی ضرورت ہے جبکہ 2.4 ارب کیوبک فٹ گیس یوروپی بازار کو فروخت کی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ تہران میںدہشت گردی مخالف کانفرنس میں افغانستان اور پاکستان کے صدور کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ دونوں ممالک امریکہ کے ساتھ دوستی سے تھک چکے ہیں اور وہ قطعی اس کی ناراضگی سے خوفزدہ نہیں ہیں ۔ دوسری طرف عراق اورشام کا ایران سے پائپ لائن کے ذریعہ گیس حاصل کرنے کا سمجھوتہ بھی کافی واضح ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان اور عراق ایسے ممالک ہیں جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج بھی موجود ہیں پھر بھی انہوں نے اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کر کے یہ بتا دیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ یاامریکی فوج سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہندوستان نے اپنی خارجہ پالیسی امریکی مفادات کے مطابق ڈھال لی ہے۔ اس سے خدشہ یہ ہے کہ ہندوستان کے کئی قدیمی دوست بچھڑ جائیں گے اور نئے دشمن پیدا ہوں گے۔ ہندوستا ن اور ایران کے درمیان تاریخی ثقافتی تعلقات ہیں لیکن اب یہ حال ہے کہ ہندوستانی عوام ایران کے خلاف مغربی پروپیگنڈے سے متاثر رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں ایران ہی واحد جمہوری ملک ہے اور وہ امریکی لالچی کمپنیوں کو اپنا تیل اور گیس نہیں دینا چاہتا۔ امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں کی اصل وجہ یہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ہندوستان پر دباوڈال رہاہے کہ ایران سے تیل نہ خریدے ۔ ہندوستان کو ایران سے پاکستان کے راستے آنے والی مجوزہ گیس پائپ لائن پروجیکٹ سے بھی دور رکھا گیا ہے۔ اب یہ پائپ لائن ایران سے صرف پاکستان تک آرہی ہے اور 2014میں اس کے ذریعہ پاکستان کو گیس ملنا شروع ہوجائےگا۔
اگرامریکی دباو ¿ جاری رہا تو ہندوستان اپنے تمام ترقیاتی پروگراموں کے لئے آنے والے برسوں میں ایندھن کی غیر معمولی ضرورت کیسے پوری کرے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے لیے ایندھن کی سپلائی میں خلل ڈال کر ملک کی ترقی متاثر کرنا مقصد ہے۔ دنیا کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے جس ملک سے بھی دوستی بڑھائی ہے آخر میں اس ملک کا انجام خراب ہوا ہے ۔ حالیہ برسوں میں عراق اور پاکستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں ۔ حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے لئے قابل اعتماد علاقائی ممالک سے دوستی اہم ہے یا ایسے ملک سے جو خود اقتصادی بحران میں مبتلا ہو اور جس پر کئی ممالک کی تباہی کا الزام ہو۔
No comments:
Post a Comment