Pages

Saturday, 9 February 2013

اسلامی انقلاب سے امریکی سیاست ناکام

برقیہ چھاپیے
محمد احمد کاظمی
ایران نے 1979 میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کے ذریعہ خود اعتمادی اور خدا پر بھروسہ کے بنیا دی اصولوں پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہوکر جو ترقی حاصل کی ہے اسے ملک کو دیکھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا ۔ میں نے ایران اور خطے کے اکثر ممالک کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے ۔ ایک طرف وہ ملک ہیں جو غیر ممالک کے ذریعہ اپنے قدرتی وسائل کا استحصال کراکر انکے اقتصادی مفادات کے لئے استعمال ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایران ہے جس نے بنیادی طور پر یہ سمجھ لیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اسی پاداش میں اقتصادی پابندیوں کے باوجود ملک نے نہ صرف تعلیم و تربیت بلکہ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں بھی غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ عوامی انقلاب کو ایران کے رہنما اسلامی بیداری تحریک کا عنوان دے رہے ہیں اور یہاں عوامی سطح پر بھی ان انقلابی تحریکوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔
میں انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کی 22ویں برسی کے موقع پر ایران کی راجدھانی تہران میں ہوں۔ میں نے ایرانی عوام اور رہنماو ¿ں میں اسلامی انقلاب کے بانی کے انتقال کے 22برس بعد بھی جس جذبہ اور احترام کا احساس کیا ہے وہ غیر معمولی ہے۔ اب سے پہلے بھی میں نے ایران کے کئی سفر کئے ہیں ۔ اس بار شمالی افریقہ اورعرب ممالک میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کے کامیابی کی طرف بڑھنے سے میں نے ایرانی عوام میں اپنے انقلاب سے مزید محبت اورہنماو ¿ں میں غیر معمولی اعتماد محسوس کیاہے ۔ اسلامی انقلاب کے موجودہ رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور صدر محمود احمدی نژادنے اپنی تقاریر میں یہ پیغام دیا ہے کہ 32برس پہلے برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کے اثرات پورے خطے میں کامیابی کے ساتھ پھیل رہے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کی مسلم ممالک کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہورہی ہیں۔وہ یہ بھی کھل کر کہہ رہے ہیں کہ سرزمین فلسطین پر غیر قانونی طور پر بسنے والے اسرائیل کو مکمل طور پر ختم ہونا ہے۔ اگر سرزمین فلسطین کے چھوٹے حصہ پر بھی صہیونی حکومت باقی رہتی ہے تو وہ کینسر والے غدود کی طرح پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل خطے کے مختلف ممالک میں اسلامی بیداری مہم کو ناکام کرنے اور اپنے حق میں رخ دینے کے لئے کوشاں ہیں۔
4جون 2011کو تہران کے جنوب میں واقع آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر 22ویں برسی کے موقع پر ایران کے مختلف شہروں اور قصبوں سے لاکھوں افراد جمع تھے۔ غیر ملکی مہمان بھی ہزاروں کی تعداد میں آئے تھے۔ مقامی لوگ بڑی تعداد میں پیدل سفر کرکے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے۔ کئی میل کے دائرے میں دور تک مر د وخواتین ، بوڑھے ، جوان اور بچے نظر آرہے تھے۔ اس موقع پر سب سے اہم تقریر اسلامی انقلاب کے موجودہ رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تھی ۔ اس موقع پر غیر معمولی بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے او راپنے رہنما کی تقریر کو یکسوئی سے سن رہے تھے ۔تقریر کے درمیان امریکہ مردا آباد ، اسرائیل مردا آباد اور اسلامی انقلاب کے حق میں نعرے لگائے جا رہے تھے۔ میں اتفاق سے ایسی جگہ بیٹھا تھا جہاں غیر ملکی سفارتکار اور اخباری نمائندوہ موجود تھے ۔ جب بھی عوام اپنے رہبر کے نظریات او رانقلاب کی حمایت اور امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت میں عرش شگاف نعرہ لگاتے تھے اکثر غیر ملکی سفارت کاروں اور اخباری نمائندوں کے چہرے اتر جاتے تھے ۔ ان کے چہروں پر غیر معمولی سکوت اور پریشانی آسانی سے محسوس کی جا سکتی تھی۔
رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریر کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے مرحوم رہنما آیت اللہ خمینی کی شخصیت اور نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بانی کی سوویت یونین کے منتشر ہونے کی پیشن گوئی جس طرح درست ثابت ہوئی تھی اسی طرح سے خطے کے ممالک میں بادشاہتوں کے خلاف بیداری کی پیشین گوئی بھی درست ثابت ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی کا انقلابی نظریہ معنویت اور منطقی طور پر اسلامی تعلیمات اور عدالت کے اصولوں پر مبنی تھا۔ مرحوم رہنما نے صرف مادی چیزوں پرنہیں بلکہ خدا کی مدد پر بھروسہ کیا تھا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد آئین ساز کونسل کے اراکین کے انتخاب سے لے کراب تک مختلف سطحوں پر 30سے زیادہ بار عوامی رائے کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے ہیں ۔ اس کے ذریعہ یہ ثابت ہوا ہے کہ عوام کے ہاتھ میں ہی ان کے مستقبل کی مہار ہے ۔ مرحوم رہنما آیت اللہ خمینی کی نظر میں دشمن طاقتوں سے خوفزدہ ہوکر ایک قدم بھی پیچھے لے جانا ناکامی کو قبول کرنا تھا۔ واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ملک کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خمینی ہمیں نصیحت کرتے تھے کہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ذمہ داری پوری کرنی چاہئے اورخودکو عوام سے اوپر نہیں سمجھنا چاہئے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کی عوام میں مذہبی جذبے اور تقویٰ اور پرہیز گاری کے بڑھتے رجحان کی بھی ستائش کی۔
اس موقع پر جم غفیر کو خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے سمجھا تھا کہ جلد ہی اسلامی انقلاب کمزور ہوجائے گا۔ انہوں نے اپنا تجزیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے دس دس برس کے وقفے سے اب تک دو بار بڑی کوششیں کی ہیں جن میںآخری کوشش گزشتہ صدارتی انتخابات کے موقع پرمخالفین کو اکسا کر کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہر بار دشمن طاقتوں کی سازشوں کو ناکام کر کے بیداری اور حکومت پر بھروسہ کا ثبوت دیا ہے۔
شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ اسلامی بیداری کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے انقلابی رہنما نے کہا کہ مصر اور تیونس میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں ایسے واقعات دو تین صدیوں میں ایک بار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسے بڑا انقلاب بتاتے ہوئے کہا کہ لیبیا ، یمن اور بحرین میں بھی عوام کو کامیابی ملے گی۔ ان کے مطابق عوامی بیداری کے سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا ۔ البتہ امریکہ او ر اسرائیل اس انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ ان کے مطابق لیبیااور یمن میں یہ طاقتیں داخلی جنگ کے حالات پیدا کر کے اپنی پسند کی حکومتیں قائم کرنا چاہتی ہیں ۔ بحرین میں عوامی انقلاب کو غلط طریقے سے مسلکی رنگ دے کر اختلافات پھیلانے کی کوشش ہورہی ہیں۔ جبکہ یہ مسلکی مسئلہ نہیں ہے وہاں کے شہری اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اگر امریکہ سعودی عرب کو بحرین میں فوج اتارنے کا اشارہ نہ کرتا تو بحرین میں موجودہ مظالم نہ ہوتے۔ اس لئے بحرین میں عوام پر ہونے والے مظالم کا امریکہ براہ راست ذمہ دار ہے۔
رہبر معظم نے مزید کہا کہ خطے میں حالیہ تحریک کے تین اہم عنصر ہیں جن میں عوامی شرکت ، امریکہ اور اسرائیل سے نفرت اور اسلامی نظریہ شامل ہے ۔ انہوں نے مصر اور خطے کی عوام کو بیدار، ہوشیار اور دشمن کی سازشوں سے با خبر رہنے کی تلقین کی ۔
واضح رہے کہ دوروز قبل ہی آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں امام حسین فوجی اکیڈمی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے امریکہ کو گھٹنے کے بل جھکنے پر مجبور کر دیاہے اور یہ کہ خطے میں امریکہ کی سیاست ناکام ہوگئی ہے۔
اس موقع پر اسلامی انقلاب کے بانی رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کے امریکہ سے متعلق خیالات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ انہوں نے مختلف مواقع پر امریکہ کے بارے میں کچھ اس طرح کہا تھا’ جتنا نقصان ہمیں امریکہ سے پہنچا ہے کسی سے نہیں پہنچا‘۔ ©’ امریکی تسلط کمزور ملتوں کے لئے ہر طرح کی مصیبت اپنے ساتھ لا تا ہے‘۔ انہو ں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’ممکن ہے امریکہ ہمیں شکست دے ، لیکن ہمارے انقلاب کو شکست نہیں دے سکتا اسی وجہ سے مجھے اپنی کامیابی کا مکمل اطمینان ہے ۔ امریکی حکومت شہادت کے مفہوم سے آگا ہ نہیںہے۔“
امام خمینی کی برسی کے موقع پر غیرملکی سفارت کار وں اور اخباری نمائندوں کو جس طرح آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت میں پورے ایران سے آئے عوام کو نعرے لگاتے دیکھ دانتوں تلے انگلی دباتے میں نے دیکھا ہے اور انکی باڈی لینگویج کو پڑھا ہے اس سے پوری طرح واضح تھا کہ مغربی حکومتیں کس قدر شدت سے شکست کا احسا س کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ تہران میں امریکی سفارتخانہ نہیں ہے لیکن اس کے اتحادی یوروپی اور عرب ممالک کے سفارت کار اپنی حکومتوں کے ذریعہ امریکہ تک یقینی طور پر ہر قسم کی خبریں پہنچاتے ہیں۔ مغربی میڈیا کے بھی بہت سے نمائندہ تہران میں موجود ہیں۔
3جون جمعہ کے روز صدر محمود احمدی نژاد نے آیت اللہ خمینی کی برسی سے متعلق ایک پروگرام میں ایران کے سیاسی نظریات کو زوردار انداز میں پیش کیا ۔ آیت اللہ خامنہ ای اور صدر احمدی نژاد نے گزشتہ چند دنوں میں سرزمین فلسطین سے اسرائیل کے مکمل خاتمے کی بات کہی ہے۔مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر اور اردن کی عوام کے ذریعہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ تیز ہونے سے امریکہ اور اسرائیل دونوں خاموش ہیں ۔ ماہرین کا کہناہے کہ اسی وجہ سے یہ دونوں ممالک خطے میں جمہوریت نواز تحریکوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ انہیں یہ محسوس ہوچکا ہے کہ خطے کی عوام فیصلہ کن مرحلے پر ہیں جس کے نتیجہ میں امریکہ اور اسرائیل کی سیاست پوری طرح ناکام ہو سکتی ہے۔
ایران کے انقلاب کے بعد گزشتہ 32برسوں میں ایران کے روز بروز مضبوط ہونے ، عراق میں صدام حکومت کے خاتمے ، لبنان میں حزب اللہ کی طاقت کے غیرمعمولی اضافے اور حال ہی میں تیونس اور مصر میں عوامی انقلابات کے کامیاب ہونے سے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ لیبیا ، بحرین اور یمن میں تبدیلی کو اب کوئی نہیں روک پائے گا ۔ اس کے بعد سعودی عرب میں عوامی انقلاب کی آمد تقریباً یقینی ہے ۔ سعودی عرب کے مشرقی تیل سے مالا مال شیعہ اکثریتی علاقوں میں حکومت کے خلاف مظاہرے اب بھی جاری ہیں۔ ایران کی کامیابی کی مثال انکے سامنے ہے اور خطے کی عوام با عزت زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ انکا اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا فطری عمل ہے۔ امریکہ میں گزشتہ ڈھائی برس میں تقریباً 500بینک بند ہو چکے ہیںاور اب وہ افغانستان اور عراق سے واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔ عراقی حکومت دسمبر 2011کے بعد ان کی مہمان نوازی کرنے کو کسی طرح تیار نہیں ہے ۔ موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی کو کوئی نہیں روک پائے گا ۔ممکن ہے کہ سازشوں کے ذریعہ اس ناکامی کو کچھ مدت کے لئے ملتوی کیا جا سکے۔

No comments:

Post a Comment